Uniform Civil Code UCC

 Uniform Civil Code



بھارت کا یکساں سول کوڈ (یو سی سی) مذاہب کے درمیان ذاتی قوانین کو معیاری بنانے کی ایک کلیدی اور متنازعہ تجویز ہے۔ آئین کا آرٹیکل 44 ریاست کو اس سمت میں کوشش کرنے کا حکم دیتا ہے، اگرچہ یہ ناقابلِ لازم اجرا ہے۔آئینی بنیادڈائریکٹو پرنسپلز آف اسٹیٹ پالیسی ک آرٹی 44 میں واضح ہے: "ریاست شہریوں کے لیے بھارت بھر میں یکساں سول کوڈ کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔" یہ آئین سازوں کی ذاتی امور جیسے شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور succession میں قانونی یکسانیت کی رائے کو ظاہر کرتا ہے جو مذہبی قوانین سے ماورا ہے۔ڈائریکٹو پرنسپلز حکمرانی کی رہنمائی کرتے ہیں مگر آرٹیکل 37 کے تحت لازم نہیں۔ یہ بنیادی حقوق کی تکمیل کرتے ہیں جیسے آرٹیکل 15 (مذہب، ذات، جنس پر امتیاز نہ لگانا) اور آرٹیکل 25 (مذہبی آزادی عوامی انتظام کی پابندیوں کے ساتھ)۔تاریخی ارتقایو سی سی کے مباحثے نوآبادیاتی دور سے جڑے جہاں برطانوی قوانین ہندو یا مسلم ذاتی قوانین کی اصلاح سے بچتے تھے تاکہ افراتفری نہ ہو۔ آزادی کے بعد آئین ساز اسمبلی میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے اس کی حمایت کی مگر مسلم رکنوں کی مخالفت نے اسے ڈی پی ایس پی میں ڈال دیا1950 کی دہائی میں ہندو کوڈ بلز نے ہندو قوانین میں شادی اور وراثت کی اصلاح کی مگر مسلموں کو خارج رکھا، جو برابری کے سوالات اٹھاتا ہے۔ گوا نے پرتگالی سول کوڈ برقرار رکھا جو یو سی سی کا عملی نمونہ ہے۔موجودہ قانونی صورتحالبھارت مذہب پر مبنی ذاتی قوانین چلاتا ہے: ہندو ہندو میرج ایکٹ 1955؛ مسلمان شریعہ (جیسے کثیر الزوجیت)؛ عیسائی انڈین کرسچن میرج ایکٹ 1872۔ یہ درہم برہم مسلم خواتین کی غیر مساوی وراثت جیسی ناانصافیوں کا باعث بنتا ہے۔اتراکھنڈ نے 27 جنوری 2025 کو یو سی سی نافذ کیا، شادیوں اور لائیو ان ریلیشن شپس کی رجسٹریشن لازمی، کثیر الزوجیت پر پابندی اور وراثت میں برابری کرتے ہوئے۔سپریم کورٹ کے اہم فیصلےشاہ بانو کیس (1985) میں عدالت نے طلاق یافتہ مسلم عورت کو بھران پالش دیا اور قانونی کثرت کی ناانصافیوں کو دور کرنے کے لیے یو سی سی کی اپیل کی۔ سرلا مضگال (1995) نے مذہب تبدیل کرکے بگامی کا مسئلہ اٹھایا اور آرٹیکل 44 کی ضرورت دہرائی۔جان ویلامٹم (2003) نے ڈی پی ایس پی کی غیر لازمیت پر تنقید کی اور یو سی سی کو سیکولرزم کا لازمی جزو قرار دیا۔ حالیہ درخواستیں ملک گیر یو سی سی مانگ رہی ہیں جبکہ لاء کمیشن اس پر کام کر رہا ہے۔حق میں دلائلیو سی سی صنفی انصاف لاتا ہے، تمام برادریوں میں وراثت اور

 طلاق میں برابر حقوق دے کر۔ یہ قومی اتحاد کو فروغ دیتا ہے اور مختلف قوانین سے فرقہ وارانہ خلیج کم کرتا ہے۔یہ قانونی عمل سادہ بناتا ہے، فورم شاپنگ روکتا اور تین طلاق جیسی پرانی روایات (2019 میں ممنوع) کو حل کرتا ہے۔چیلنجز اور تنقیدمخالف کہتے ہیں کہ یہ آرٹیکل 25 کی مذہبی آزادی ختم کرتا ہے اور ہندو اکثریت کے قوانین اقلیتوں پر تھوڑے۔ بھارت کی 2000 سے زائد نسلی گروہوں والی تنوع قبائلی روایات کی حساسیت مانگتی ہے۔نفاذ سے سماجی بگاڑ کا خطرہ؛ اتراکھنڈ نے قبائل کو شروع میں چھوڑ دیا۔ 22ویں لاء کمیشن (2018) نے ذاتی قوانین میں اصلاح کو ترجیح دی۔اتراکھنڈ ماڈل2024 میں منظور، 2025 سے نافذ: لائیو ان رشتوں کا اعلان، شادی کی یکساں عمر (مرد 21، عورتیں 18)، خواتین کو برابر کاپارسنری۔ کثیر الزوجیت، حلالہ ممنوع؛ طلاق رجسٹریشن لازمی۔فروری 2026 تک پورٹل سے نگرانی، رجسٹریشن آسان مگر مسلم گروہوں کی مزاحمت۔قومی نفاذ کا پلان22ویں لاء کمیشن نے 2023 تک آراء لیں؛ بی جے پی 2024 منشور میں ترجیح۔ صدر مرمو 2025 مشاورت کا اشارہ۔ پارلیمنٹ کمیٹی یا اتراکھنڈ جیسا بل ممکن۔مشاورت، پائلٹ سٹیٹس، چھٹی شیڈول کے لیے آئینی تبدیلیاں۔عالمی مثالفرانس، ترکی نے مذہبی اصلاحات کے بعد سیکولر کوڈ نافذ کیا۔ کینیڈا ہائبرڈ ماڈل دیتا ہے۔اقلیتوں پر اثراتمسلمان شریعہ، عیسائی قانون کانون سے ڈرتے۔ حامی قبائلی استثنیٰ اور اصلاحات کہتے ہیں۔صنفی اثراتخواتین فائدہ مند: ہندو خواتین 2005 سے کاپارسنری؛ یو سی سی سب کو۔ بچوں کی شادی جرائم۔معاشی سماجی فوائدوراثت تنازعات کم، خواتین اثاثے 13% سے بڑھائیں، خاندان جدید۔رکاوٹیںسیاسی تقسیم، وفاقیت، عدالتی احتیاط۔ 2024 انتخابات کے بعد موجودہ حکومت تیز۔یو سی سی برابری کا وعدہ ہے مگر مشاورت چاہیے۔ اتراکھنڈ سبق دیتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Today's News Thursday, March 20, 2025

The Bachelor

Maze Amazing Book for kids