Jasmine - The Boy Who Built Himself
Jasmine - The Boy Who Built Himself وہ لڑکا جس نے خود کو تعمیر کی چنّاکم کی دنیا چنّاکم پر سورج طلوع نہیں ہوتا تھا، بلکہ کھلتا تھا۔ جیسے سونے کا کوئی پھول گرد آلود سڑکوں اور کھجور کے درختوں کی قطار پر کھل رہا ہو۔ وہ چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن کو سنہری اجالے سے نہلاتا، چائے کی دوکانوں کی ٹین کی چھتوں پر چمکتا، اور اس چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوتا جہاں عبداللہ خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ بارہ سال کا تھا۔ چھوٹے قصبے ہوتے ہی ہیں ایسے کہ ہر بچہ سب کا اپنا لگتا ہے۔ وہ فریضہ کا بیٹا تھا، وہ بیوہ عورت جو اپنے چھوٹے سے گھر کے سامنے والے کمرے میں کپڑے سی کر گزارہ کرتی تھی۔ اس کا باپ رؤف ایک استاد تھا جو مر گیا تو پیچھے صرف قرض چھوڑ گیا اور کتابوں کی ایک الماری۔ مگر عبداللہ وہ بھی تھا جو جمعہ کے روز بوڑھی مسز تھنگاراج کا سبزیوں والا ٹوکرا اٹھانے میں مدد کرتا۔ وہ بھی تھا جو ہندی فلم کا گانا ایک بار سن کر پورا اداکاروں کے انداز میں سنا دیتا، جس پر چائے والے بابو ہنس ہنس کر ہتھیلیاں پیٹ لیتے۔ وہ بھی تھا جو کبھی کسی آوارہ کتے کے کان نہیں سہلاتا گزر جاتا۔ "فریضہ، تم ایک بیٹا پال رہی ہو جو پورے گاؤں کا ہے،...