Pledge for Corruption Free State
Pledge for Corruption Free State
عہد کریں ایک کرپشن فری رsیاست کا
عوام کے مشاہدات ہندوستان کے کئی حصوں میں گہری جڑی ہوئی اور افسوسناک حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ حالیہ خبریں ان مثالوں سے بھری پڑی ہیں جو آپ کے خدشات کی تصدیق کرتی ہیں، اور دکھاتی ہیں کہ کس طرح بدعنوانی کی مختلف سطحیں، بڑے گھوٹالوں سے لے کر روزمرہ کی رشوت ستانی تک، غریبوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنا کر ان کا استحصال کرتی ہیں۔
سرکاری دفاتر میں بدعنوانی کے موجودہ منظر نامے کا تجزیہ، تازہ ترین اپ ڈیٹس کی روشنی میں۔
بدعنوانی کی ساخت: رشوت سے لے کر "لینڈ مافیا" تک
بدعنوانی کا نظام کئی سطحوں پر کام کرتا ہے، لیکن اس کا اثر ہمیشہ عام شہری پر سب سے زیادہ شدید پڑتا ہے۔
• بلاک اور سرکل دفاتر میں روزانہ کی وصولی: آپ کا یہ کہنا کہ "بغیر رشوت کے کوئی کام نہیں" ایک روزمرہ کی حقیقت ہے۔ چند روز قبل، بہار کی ویجیلنس انویسٹی گیشن بیورو نے سپول میں ایک سروے امین (زمین ریکارڈ اہلکار) کو زیر التواء زمینی سروے کا کام مکمل کرنے کے لیے 20،000 روپے رشوت مانگنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ اسی دن ایک علیحدہ واقعے میں، ایک بلاک سپلائی آفیسر کو عوامی تقسیم کے نظام (PDS) کے تحت ایک خاندان کے غذائی اجناس کے الاؤنس میں اضافہ کرنے کے لیے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں؛ یہ ایک ٹول پلازہ کی نمائندگی کرتے ہیں جسے غریب اپنے بنیادی حقوق اور استحقاق حاصل کرنے کے لیے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
"لینڈ مافیا" کے ساتھ گٹھ جوڑ: عوام کا زمین پر مافیا کے کنٹرول کا ذکر براہ راست اعلیٰ سطح کی بدعنوانی سے جڑا ہوا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال جاری "زمین کے بدلے نوکری" کا گھوٹالہ ہے۔ دہلی کی ایک عدالت نے حال ہی میں سابق ریلوے منیسر لالو پرساد اور ان کے خاندان کے خلاف الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے وزارت کو "ذاتی جاگیر" کی طرح استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ نجی زمینوں پر قبضہ کیا جا سکے۔ اس مقدمے میں الزامات ہیں کہ 2004 اور 2009 کے درمیان، ریلوے میں نوکریوں کا تبادلہ وزیر کے خاندان کو دیے گئے زمین کے پلاٹوں سے کیا گیا۔ یہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح سیاسی طاقت کو ریاستی تحفظ یافتہ لینڈ مافیا بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک نظر میں حالیہ مثالیں
مسئلے کی وسعت کو واضح کرنے کے لیے، یہاں صرف پچھلے چند مہینوں میں رپورٹ ہونے والے کچھ کیسز پیش ہیں:
بدعنوانی کی قسم حالیہ واقعہ (فروری 2026) اہم اثر
چھوٹی رشوت (زمین ریکارڈ) بہار میں سروے امین کو زمین کے سروے کے لیے 20،000 روپے رشوت لینے پر گرفتار کیا گیا۔ غریب کو قانونی زمین کی ملکیت/ریکارڈ سے روکتا ہے۔
رشوت (عوامی تقسیم) بہار میں بلاک سپلائی آفیسر خوراک کے الاؤنس میں اضافے کی رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا۔ ضرورت مند کو غذائی تحفظ سے محروم کرتا ہے۔
ویلفیئر فنڈ کی ہیرا پھیری گجرات کے ایک وزیر کے بیٹے منی ریشا گھوٹالے میں 71 کروڑ روپے کی جعلی اسکیموں میں ملوث۔ دیہی/قبائلی غریب سے مزدوری اور کام چھینتا ہے۔
اعلیٰ سطح کا "لینڈ مافیا" سابق ریلوے منسٹر لالو پرساد "زمین کے بدلے نوکری" گھوٹالے میں ملزم؛ وزارت کو "جاگیر" کی طرح چلایا گیا۔ شہریوں کی زمین ہتھیائی گئی؛ عوام کا اعتماد ختم ہوا۔
افسران کی بھتہ خوری اڈیشہ میں مائنز افسر رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا؛ چھاپوں میں 4 کروڑ روپے سے زیادہ نقدی برآمد۔ غیر قانونی کان کنی کو ہوا دیتا ہے؛ چھوٹے کاروباروں سے بھتہ وصولی کرتا ہے۔
تنخواہ میں بھتہ خوری اندور میں ہیلتھ افسران نے ایک ساتھی کی تنخواہ کلیئر کرنے کے لیے رشوت مانگی۔ ایماندار ملازمین کا حوصلہ پست کرتا ہے؛ بھتہ خوری کو معمول بناتا ہے۔
غریب بنیادی شکار کیوں ہیں؟
تلاش کے نتائج واضح طور پر دکھاتے ہیں کہ کس طرح نظامی بدعنوانی "غربت کا جال" (پاورٹی ٹریپ) تخلیق کرتی ہے۔ غریب محض اتفاقی شکار نہیں ہیں؛ وہ بنیادی ہدف ہیں۔
حقوق تک رسائی مسدود: معمولی کسان یا بے زمین مزدور کے لیے، زمین کا ریکارڈ درست کروانا یا راشن کارڈ حاصل کرنا بقا کا مسئلہ ہوتا ہے۔ جب بہار کے امین جیسے اہلکار ان خدمات کے لیے رشوت مانگتے ہیں، تو وہ غربت پر ٹیکس لگا رہے ہوتے ہیں۔ شہری قانونی طور پر اپنا حق حاصل کرنے کے لیے محض ادائیگی کرنے پر مجبور ہے۔
ترقیاتی فنڈز کی چوری: منی ریشا جیسی اسکیمیں دیہی غریبوں کے لیے حفاظتی جال (سیفٹی نیٹ) ہیں، جو انہیں کام نہ ہونے پر روزگار فراہم کرتی ہیں۔ گجرات میں 71 کروڑ روپے کا گھوٹالہ یا جھارکھنڈ میں پچھلے گھوٹالوں میں جعلی پراجیکٹ اور بھوت مزدور (گھوسٹ ورکرز) بنانا شامل تھا، مطلب یہ کہ فنڈز جو غریب ترین لوگوں تک پہنچنے چاہیے تھے، طاقتوروں نے ہڑپ کر لیے۔ غریب کے پاس نہ کام بچا اور نہ مزدوری۔
مایوسی کا کلچر: جب رشوت یہ طے کرے کہ سرکاری نوکری کسے ملے گی، تو یہ غریب پس منظر سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کی امیدوں کو ختم کر دیتا ہے جو میرٹ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ انہیں یا تو رشوت دینے یا ہار ماننے کے چکر میں دھکیل دیتا ہے، جس سے وہی نظام مضبوط ہوتا ہے جو ان کا استحصال کرتا ہے۔
نظامی ناکامی اور احتساب کی کرن
اس بدعنوانی کا برقرار رہنا گہری نظامی ناکامیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ نوآبادیاتی دور کی وراثت، بیوروکریٹک طاقت اکثر بے خوف و خطر کام کرتی ہے، جس سے چند لوگوں کے لیے "افادیت کی جیبیں" پیدا ہوتی ہیں جو درحقیقت اقتدار اور دولت کی جیبیں ہیں۔ سیاستدان اور بیوروکریٹ ایک اشرافیہ اتحاد بناتے ہیں، جہاں قوانین کا اطلاق انتخابی طور پر کیا جاتا ہے۔
بہار، اڈیشہ اور مدھیہ پردیش میں ویجیلنس بیورو کی حالیہ گرفتاریاں یقیناً امید کی کرن دکھاتی ہیں۔ وہ ظاہر کرتی ہیں کہ انسداد بدعنوانی ایجنسیاں کم از کم کارروائی تو کر رہی ہیں، چاہے وہ اکثر نچلی سطح کے اہلکاروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ سابق ریلوے وزیر کے خلاف الزامات کا قیام بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ قانونی نظام، اگرچہ آہستہ ہی سہی، طاقتوروں کو جوابدہ ٹھہرانے لگا ہے۔
بدعنوانی کے اس "متوازی نظام" کے خلاف جنگ کے لیے حکام اور شہریوں دونوں کی مسلسل چوکسی کی ضرورت ہے۔
آپ نے زمین سے متعلق بدعنوانی کا ذکر کیا، کیا آپ زمین مافیا سے خود کو بچانے کے لیے مخصوص قانونی دفعات اور شہریوں کے حقوق کے بارے میں مزید جاننا چاہیں گے؟

Comments
Post a Comment