Lonely Love



 تمہارے شہر کا موسم سُھانا لگےباب اول: پرانی یادوں کی بارشدہلی کی وہ گلیاں، جہاں ہوا میں مٹی کی خوشبو اور بارش کی بوندوں کا امتزاج ہوتا ہے۔ عائشہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن وہ واپس آئے گی اس شہر میں، جہاں اس کی پہلی محبت نے جنم لیا تھا۔ کالج کے دن تھے، جب ارحان اور عائشہ کی نظریں پہلی بار ملی تھیں۔ دونوں ہی لاو سکول کے طالب علم تھے، خوابوں کی دنیا میں کھوئے ہوئے۔ ارحان کی مسکراہٹ ایسی تھی کہ دل کی دھڑکنیں رک جاتیں، اور عائشہ کی آنکھیں ایسی کہ ستارے شرما جاتے۔لیکن زندگی نے الگ کر دیا تھا۔ عائشہ کے والد، ایک سخت گیر بزنس مین، نے اس کی شادی ایک امیر گھرانے میں طے کر دی تھی۔ "محبت کی باتیں چھوڑو، بیٹی۔ یہ دنیا ہے، حقیقت دیکھو،" انہوں نے کہا تھا۔ عائشہ نے احتجاج کیا، روئی، مگر خاندان کی مجبوریوں نے اسے لے لیا۔ شادی ہوئی، مگر دل ٹوٹا۔ شوہر امیر تھا، مگر محبت سے خالی۔ پانچ سال گزرے، اور اب شوہر کی موت کے بعد عائشہ آزاد تھی – آزاد مگر تنہا۔وہ دہلی واپس آئی تھی قانونی کاموں کے سلسلے میں۔ ایک چھوٹی سی کیفے میں بیٹھی، کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی۔ بارش کی بوندیں شیشے پر ٹپک رہی تھیں، جیسے آنسو۔ اچانک دروازہ کھلا، اور ایک مانوس آواز گونجی: "عائشہ؟"وہ ارحان تھا۔ برسوں بعد، مگر وہی چہرہ، وہی آنکھیں۔ بالوں میں چند سفید ریشے، مگر مسکراہٹ وہی جادوئی۔ "ارحان... یہ تم؟" عائشہ کی آواز کانپ گئی۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی، اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ "بیٹھو،" ارحان نے کہا، اور کافی کا آرڈر دیا۔"تمہارے شہر کا موسم سُھانا لگے، جب تم مل جاؤ،" عائشہ نے ہلکے سے مسکرا کر کہا۔ یہ وہی لائن تھی جو کالج میں ارحان نے اسے لکھی تھی ایک خط میں۔ ارحان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "یاد ہے تمہیں؟ میں نے سوچا تھا تم بھول گئی ہوگی۔"باتیں شروع ہوئیں۔ ارحان اب ایک وکیل تھا، دہلی کی عدالتوں میں مشہور۔ شادی نہ کی تھی۔ "دل میں صرف تم تھیں، عائشہ۔ دوسری کوئی جگہ نہ ملی۔" عائشہ نے سر جھکا لیا۔ "میری شادی ہو گئی تھی۔ شوہر اچھا تھا، مگر... محبت نہ تھی۔ اب وہ چل بسا۔" خاموشی چھا گئی۔ بارش تیز ہو گئی۔باب دوم: ماضی کی گلیاںاگلے دن ارحان نے عائشہ کو بلایا۔ "چلو، پرانی جگہوں پر گھومیں۔" وہ دہلی کی پرانی گلیوں میں نکلے۔ پہلے وہ کیفے جہاں ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی – اب بھی وہی پرانا لکڑی کا دروازہ، وہی دیوار پر پوسٹرز۔ "یہاں تم نے مجھے پہلی بار کافی پلائی تھی،" ارحان نے یاد دلایا۔ عائشہ ہنس پڑی۔ "اور تم نے کہا تھا، 'تمہارے شہر کا موسم سُھانا لگے جب تم آؤ۔' مگر میرا شہر تو لکھنؤ تھا۔"پھر لال قلعہ کی طرف۔ ہوا میں سردی تھی، مگر دونوں کے درمیان گرمی۔ ارحان نے عائشہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ "یاد ہے، یہاں ہم نے وعدہ کیا تھا؟ ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔" عائشہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ "مگر خاندان نے توڑ دیا۔ اب کیا؟"رات کو ارحان کے فلیٹ پر۔ وہ اکیلا رہتا تھا، ایک سادہ سا گھر بھرا ہوا کتابوں سے۔ "میں نے ہر سال تمہارا یوم پیدائش منایا،" اس نے ایک البم دکھایا – تصویریں، خطوط، سب کچھ۔ عائشہ رو پڑی۔ "میں نے بھی تمہیں بھولنے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔ ہر بارش میں تم یاد آتے۔"وہ قریب آئے۔ ارحان نے اس کے بالوں کو چھوا۔ "اب الگ نہ ہوں گے۔" ان کے ہونٹ ملے – ایک نرم، لمبا بوسہ، جیسے برسوں کی پیاس مٹ گئی۔ رات بھر باتیں ہوئیں، خواب بنے، مستقبل کی پلاننگ۔باب سوم: خاندان کی آندھیخبر پھیل گئی۔ عائشہ کی ماں نے فون کیا۔ "بیٹی، وہ ارحان؟ وہ تو غریب گھرانے کا ہے! ہمارا رشتہ بریک ہو جائے گا۔" عائشہ نے کہا، "اماں، اب میں آزاد ہوں۔ محبت چاہتی ہوں، دولت نہیں۔" مگر ماں نے ہار نہ مانی۔ ارحان کے دوستوں نے بھی مشورہ دیا، "وہ بیوہ ہے، سماج کیا کہے گا؟"ایک دن عائشہ کے والد دہلی آ گئے۔ بڑے کمرے میں بیٹھے، ارحان کو بلایا۔ "تم نے میری بیٹی کو چھین لیا تھا، اب پھر؟" ارحان نے سر جھکایا۔ "انکل، میں نے کبھی نہ چھینا۔ محبت نے بلایا ہے۔" عائشہ نے کہا، "ابا، میری شادی آپ نے کی تھی، مگر دل میرا ہے۔"جھگڑا ہوا۔ والد غصے میں چلے گئے۔ عائشہ روئی۔ ارحان نے تسلی دی۔ "سب ٹھیک ہو جائے گا۔" مگر عائشہ کے دل میں شک پیدا ہو گیا۔ "کیا ہم واقعی ساتھ رہ سکیں گے؟"باب چہارم: بارش کی راتدہلی میں موسم بدل گیا۔ شدید بارش، بجلی چمکنے لگی۔ عائشہ تنہا گھر پر تھی۔ اچانک دروازہ کھٹکھٹایا۔ ارحان بھیگا ہوا کھڑا تھا۔ "عائشہ، میں بغیر تمہارے نہ رہ سکتا۔ چلو، بھاگ جائیں۔" عائشہ ہچکچی۔ "مگر خاندان؟"ارحان نے ہاتھ بڑھایا۔ "تمہارے شہر کا موسم سُھانا لگے، یا میرے شہر کا – بس تم ہو تو۔" وہ باہر نکلے۔ بارش میں بھیگتے چلتے رہے۔ سڑکوں پر پانی بہہ رہا تھا، مگر ان کے قدم مضبوط۔ ایک چھوٹے سے ہوٹل میں رات گزارے۔ وہاں، گرم کمبل میں لپٹے، انہوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔"یاد ہے کالج ٹرپ؟" ارحان نے پوچھا۔ "ہم نے دریا کنارے کیمپ لگایا تھا۔" عائشہ نے ہنس کر کہا، "تم نے گٹار بجایا، اور میں نے گایا – 'تمہارے شہر کا موسم...' " وہ گانا گانے لگے۔ رات گہری ہوئی، اور محبت کی گرمی نے سردی بھگا دی۔اگلی صبح، وہ واپس آئے۔ عائشہ نے ماں کو فون کیا۔ "اماں، میں ارحان سے شادی کروں گی۔" ماں نے روتے ہوئے کہا، "ٹھیک ہے، بیٹی۔ بس خوش رہو۔" والد بھی نرم پڑ گئے۔باب پنجم: نئی صبحشادی سادہ سی ہوئی۔ دہلی کی ایک مسجد میں، صرف قریبی لوگ۔ عائشہ نے سرخ جوڑا پہنا، ارحان نے شیروانی۔ قازی نے نکاح پڑھایا۔ "تمہارے شہر کا موسم سُھانا لگے، ہمیشہ،" عائشہ نے سرگوشی کی۔زندگی شروع ہوئی۔ ارحان عدالتوں میں مصروف، عائشہ نے ایک این جی او شروع کیا – بیوہ خواتین کی مدد کا۔ گھر میں ہنسی مذاق، بارش کی راتیں، اور وہ پرانی لائن جو اب ان کا نشید بن گئی تھی۔ایک دن، عائشہ حاملہ ہوئی۔ ارحان نے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ "ہمارا بچہ، تمہارے شہر میں پیدا ہوگا۔" عائشہ مسکرائی۔ "ہر شہر ہمارا ہے، جب محبت ہو۔"دہلی کی گلیوں میں اب بھی بارش ہوتی ہے، مگر اب موسم ہمیشہ سُھانا لگتا ہے۔ کیونکہ محبت واپس آ گئی تھی – تمہارے شہر کا موسم سُھانا لگے، جب دل ساتھ ہوں۔(کہانی مکمل۔ یہ ایک مکمل رومانوی ناول کا خلاصہ ہے، جذبات، جدوجہد اور خوش اختتام کے ساتھ۔)  ?

Comments

Popular posts from this blog

Russia and Ukraine War -Goodwill Talks for Peace will end the War

The Bachelor

Forever Yours