KAPIL DEV - The Cricket Legend

 کپیل دیو، جنم دن مبارک!آج، 6 جنوری 2026 کو، کرکٹ کے اساطیر کپیل دیو 67 سال کے ہو گئے۔ ہریانہ ہیراکن کے نام سے مشہور، انہوں نے اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں، علامتی کپتانی اور ناقابلِ توڑ ریکارڈز سے بھارتی کرکٹ کو بدل دیا۔ابتدائی زندگی اور ڈومیسٹک عروج

کپیل دیو نیکھنج 6 جنوری 1959 کو چنڈی گڑھ میں ایک پنجابی ہندو خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد رام لال تک کے لکڑی کے تاجر تھے۔انہوں نے ڈی اے وی کالج میں اپنی مہارت کو نکھارا اور 1975 میں ہریانہ کی طرف سے ڈیبیو کیا، پنجاب کے خلاف 6 وکٹیں لے کر سیزن کے اختتام پر 30 میچوں میں 121 وکٹیں حاصل کیں۔ بعد کے سیزنز میں انہوں نے متعدد 8 وکٹوں کی کاریگریاں کیں، بشمول بنگال کے خلاف 8/20، اور ہریانہ کو 1990-91 رنجی ٹرافی جتوائی، جہاں سیمی فائنل میں 141 رنز اور 5 وکٹیں، اور فائنل میں بمبئی (سچن ٹنڈولکر سمیت) کے خلاف اہم شراکت کی۔ ان کا کاؤنٹی کرافٹ نارتھمپٹن شائر (1981-83) اور وورسٹر شائر (1984-85) میں 40 میچوں میں 2,312 رنز (4 سنچریاں) اور 103 وکٹیں بنا، جو ان کی مہارت کو مزید تیز کر گیا۔ یہ ڈومیسٹک کارنامے، تیز رفتار گیند بازی اور جارحانہ بیٹنگ کا امتزاج، انہیں انٹرنیشنل اسٹیج پر لے گئے۔انٹرنیشنل ڈیبیو اور ابتدائی کیریئر

کپیل نے 16 اکتوبر 1978 کو فیصل آباد میں پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا، جہاں تیز رفتار اور بانسرز سے بیٹسمین حیران رہے باوجود متواضع کارکردگی کے۔ انہوں نے کراچی میں 33 گیندوں پر بھارت کا سب سے تیز ٹیسٹ ففٹی اسکور کیا اور 1979 میں دہلی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلی سنچری (126) بنائی۔ گھر میں آسٹریلیا کے خلاف 28 وکٹیں، اور 1979-80 میں پاکستان کے خلاف 32 وکٹیں بشمول چنئی میں 7/56، 25 ٹیسٹوں میں 100 وکٹیں اور 1,000 رنز بنانے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔ ون ڈے میں سست آغاز ہوا، مگر 1980-81 میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلی ففٹی اسکور کی۔ 1982 کے انگلینڈ ٹور پر بیٹنگ ایوریج 73 اور مین آف دی سیریز ایوارڈز جیتے، بھارت کے پیس اسپیرہیڈ بنے۔ 24 سال کی عمر میں 1982 تک، وہ قیادت کے لیے تیار تھے۔کپتانی کا عروج: 1983 ورلڈ کپ فتح

1982-83 میں سنیل گاو سکڑ کے آرام کے بعد کپتان بنائے گئے، پہلی مکمل سیریز ویسٹ انڈیز کے خلاف ODI فتح (72 رنز، 2 وکٹیں) سے حوصلہ بڑھا۔ 1983 ورلڈ کپ میں 66-1 انڈر ڈاگ India نے ویسٹ انڈیز کو پہلے ہرایا، مگر زمبابوے کے خلاف 17/5 پر پہنچ گئے—کپیل کی 138 گیندوں پر نان اسٹرک آؤٹ 175* (16 چوکے، 6 چھکے) نے بچایا، سید کرکمانی کے ساتھ 10ویں وکٹ کی ریکارڈ شراکت۔ سیمی فائنل میں انگلینڈ کو 3/41 سے روکا؛ لارڈز فائنل میں 183 کا دفاع کرتے ہوئے و وِ و رچرڈز کا شاندار بیک ورڈ کیچ (20 یارڈ دوڑ کر) ویسٹ انڈیز کو 140 پر آل آؤٹ کرایا، بھارت کو پہلا ورلڈ کپ جتوایا۔ کپیل نے 8 میچوں میں 303 رنز (ایوریج 60.60) اور 12 وکٹیں لیں، سب سے کم عمر ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان۔ انہوں نے 1988 اور 1991 ایشیا کپ بھی جیتے۔ مجموعی کپتانی ریکارڈ کپیل نے 34 ٹیسٹ کپتانی کی (4 فتوحات، 7 ہار، 1 ٹائی، 22 ڈرا) اور 74 ODI (39 فتوحات، 33 ہار)۔ سری لنکا (13 میں 10 فتوحات) اور زمبابوے (4/4) کے خلاف مضبوط، ویسٹ انڈیز (0/11 ٹیسٹ) کے خلاف مشکل۔ 1983 کے بعد انگلینڈ پر 2-0 ٹیسٹ فتوحات (1986)، 1985 ورلڈ چیمپئن شپ، اور 1987 ورلڈ کپ سیمی فائنل، حالانکہ انگلینڈ کے خلاف گراوٹ کی ذمہ داری۔ ان کا جارحانہ انداز کھلاڑیوں میں یقین پیدا کرتا رہا۔کیریئر کی کامیابیاں اور ریکارڈز

کپیل نے 131 ٹیسٹ کھیلے (5,248 رنز، ایوریج 31.05، 8 سنچریاں، HS 163؛ 434 وکٹیں، ایوریج 29.64، بہترین 9/83، 27 فائیو فورز) اور 225 ODI (3,783 رنز، ایوریج 23.79، 1 سنچری—175*—14 ففٹیاں؛ 253 وکٹیں، ایوریج 27.45، بہترین 5/43)۔ پہلے 400 ٹیسٹ وکٹیں اور 5,000 رنز؛ ٹیسٹ وکٹس کا عالمی ریکارڈ (434، 2000 تک)؛ پہلے 200 ODI وکٹیں۔ایوارڈز: ارجن (1980)، پدما شری (1982)، پدما بھوشن (1991)، وزڈن کرکٹر آف دی ईئر (1983)، وزڈن انڈین آف دی سنچری (2002)، ICC ہال آف فیم (2010)، سی کے نایڈو لائف ٹائم (2013)۔ انہوں نے بھارت کی کوچنگ کی (1999-2000، مخلوط نتائج)، میچ فکسنگ الزامات سے صاف ہوئے، اور NCA چیئرمین رہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد، گالف کھیلا، کتابیں لکھیں، اور فلم '83' (2021) میں نمودار ہوئے۔ دائمی وراثت۔کپیل کی 1983 کی بہادری نے بھارت میں کرکٹ کا جنون جگایا، ٹنڈولکر جیسے ستاروں کی رہنمائی کی اور پیس بولنگ کے ضابطے بدلے۔ جنم دن پر، ان کی آل راؤنڈ مہارت—5,000+ رنز، 687 وکٹیں—بھارتی کے لیے بے مثال ہے۔ ہریانہ کے کھیتوں سے لارڈز کی شہرت تک، کپیل دیو کرکٹ میں لچک اور خوشی کی علامت ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Today's News Thursday, March 20, 2025

The Bachelor

Russia and Ukraine War -Goodwill Talks for Peace will end the War